Azaad Beeti آزاد بیتی


“یہ کتاب بہت سی وجوہات کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مولانا نے اپنے والد مرحوم کے حالات بھی لکھوا دیے ہیں اور خود اپنے بالکل ابتدائی حالات بھی چار سال کی عمر سے۔ اسی کتاب سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مولانا کس ماحول میں پیدا ہوئے، بڑھے پلے، پروان چڑھے اور بتدریج، مگر حیرت انگیز تیز رفتاری سے ہوتے ہوتے ’’ابوالکلام‘‘ بن گئے۔ بڑے آدمیوں کی سوانح میں سب سے زیادہ کھوج اسی بات کا مؤرخ لگاتا ہے کہ ماحول کیا تھا اور ذہنی ترقی کے مدارج کی رفتار اور تاریخ کیا تھی؟ مولانا نے اپنے حالات لکھا کر مؤرخ کو اِس جستجو سے اور جستجو کی دشواریوں سے نجات دے دی ہے۔آپ کتاب نہیں پڑھ رہے ہیں۔ دیکھیے، ایک ننھا سا بچہ ہے، دِل فریب چہرے پر بوڑھوں کی سنجیدگی چھائی ہوئی ہے، ’’ابوالکلام‘‘ بنتا چلا جا رہا ہے اور آپ ہیں کہ اِس خارقِ عادت ذہانت و فطانت میں ڈوبتے اور اَش اَش کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کتاب کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ مولانا کی روز مرہ کی بات چیت قلم بند ہوگئی ہے۔ مولانا کے قلم کی گل کاریاں تو بہت کچھ محفوظ ہوچکی ہیں، مولانا کی معجز بیانیاں بھی ہماری موجودہ نسل کے کانوں میں برابر گونجتی رہیں گی اور کوئی کوئی تقریر قلم بند بھی ہوچکی ہو گی، مگر مولانا گھر میں، نج میں بیٹھ کر کس طرح گفتگو کرتے تھے؟ ان کی یہ گفتگو ہو بہ ہو اِس کتاب میں محفوظ ہوچکی ہے اور یہ ایک بڑی بات ہے۔ پبلک تقریروں کی زبان الگ ہوجاتی ہے اور تحریر بھی روز مرہ گفتگو کا ساتھ نہیں دیتی، لیکن گھریلو بول چال اگر کسی بڑے آدمی کی مل جائے تو ہم اس سے بڑے آدمی کی نفسیات کی اسٹڈی میں بڑی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کتاب میں بعینہٖ وہی کچھ ہے جو مولانا کی زبان سے نکلا تھا، میں نے اس میں کسی قسم کا بھی تصرف یا تغیر و تبدل کرنا خلافِ دیانت سمجھا ہے۔”
ملیح آبادی

700.00

SHOPPING CART

close