, ,

چنگیز خان سے جہانگیر تک


مجھے یہ دوا نہیں کہ میں تاریخ لکھ رہا ہوں لیکن اس حقیقت سے مفر نہیں کہ میں اپنی روایت کے مطابق مضمون کو کہانی بنانے میں کامیاب رہا ہوں ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو میں تاریخی ناول نگاری کی روایت کوئی نئ نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تاریخی ناول نگاروں نے تاریخ کو مسخ بھی کیا ہے ۔ اس لیے میں دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ میں تاریخی ناول نہیں لکھ رہا ہوں بلکہ تاریخ کو دلچسپ بنانے کے لیے کہانی کی راہ اختیارکر رہا ہوں۔حقائق وہیں لہجہ بینایہ ہے۔
املیہ یہ بھی ہے کہ تاریخ عوام کے شب و روز کی عکاس نہیں ہوتی ، حکمرانوں کے لیل ونہار سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس لیے لازم ہے کہ حکمرانوں کے شایان شان زبان کا استعمال بھی ہو خصوصا اس حالت میں کہ جب تاریخ کو کہانی بنایا جارہا ہو ۔ میں نے اس ضرورت کا پورا خیال رکھا ہے ۔ آپ کو یہ کہانیاں زبان و بیان کا ایک مختلف انداز لیے نظر آئیں گی جو موضوع کو مزید دلچسپ بنانے میں معاون ہوں گی ۔
میں نے ان کہانیوں میں “فکشن” ضرور شامل کیا ہے لیکن صرف اتنا جتنا کہ آٹے میں نمک ۔ اسی لیے یہ کہانیاں موضوع کی درستی کے ساتھ ساتھ “زبان” کی خوب صورتی کا حق بھی ادا کرتی نظر آئیں گی ۔

800.00

Based on 0 reviews

0.0 overall
0
0
0
0
0

Be the first to review “چنگیز خان سے جہانگیر تک”

There are no reviews yet.

SHOPPING CART

close